مسئلہ اختلافیہ



 فقد التأمت الکلمات الصحیحۃ المعتمدۃ جمیعا علی ان المقلد لیس لہ الا تقلید الامام وان افتی بخلافہ مفت او مفتون، فان افتاء ھم جمیعا بخلافہ فی غیر صور الثنیا ماکان وما یکون۔ والحمد للہ رب العٰلمین وصلاتہ الدائمۃ علی عالم ماکان وما یکون وعلی اٰلہ وصحبہ وابنہ وحزبہ افضل ماسأل السائلون۔ ھذا ما تلخص لنا من کلما تھم وھوا المنھل الصافی الذی وردہ البحر فاستمع نصوص العلماء کشف اللہ تعالی بھم العماء وجلابھم عنا کل بلاء وعناء۔


تو تمام صحیح معتمد کلمات اس پر متحد ثابت ہوئے کہ مقلد کو بہر صورت امام ہی کی تقلید کرنا ہے اگرچہ کسی ایک مفتی یا چند مفتیوں نے اس کے خلاف فتوی دیا ہو کیونکہ سب کے سب مفتیوں کا خلاف امام افتا بجز صور استثنا ۔۔۔۔۔ نہ کبھی ہوا ہے نہ ہوگا ۔ اور تمام تر ستائش خدا کے لئے جو سارے جہانوں کا پرور دگار ہے ، اوراس کا دائمی درود ہو عالم ماکان ومایکون پر ، اور ان کی آل ، اصحاب فرزند اور گروہ پر ، ان درو دوں میں سب سے افضل درود جن کا سائلوں نے سوال کیا، 

یہ ہے وہ جو کلمات علما ءکی تلخیص سے ہمیں حاصل ہوا اور یہی وہ چشمہ صافی ہے جس پر '' بحر'' اتر ے ۔

اب علماء کے نصوص ملاحظہ ہو ں ، ان حضرات کے طفیل اللہ تعالی نابینائی زائل کرے اور ان کے صدقے میں ہم سے ہر تکلیف وبلا دور کرے ،


خمسۃ واربعون نصا علی المدعی


فــی محیط(۱)الامام السرخسی ثم الفتاوی(۲) الھندیۃ لابد من معرفۃ فصلین احدھما انہ اذا اتفق اصحابنا فی شیئ ابو حنیفۃ وابویوسف ومحمد رضی اللہ تعالی عنھم ینبغی للقاضی ان یخالفھم برأیہ والثانی ا ذا اختلفوا فیما بینھم قال عبداللہ  (۳) بن المبارک رحمہ اللہ تعالی یؤخذ بقول ابی حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ لانہ فـــ کان من التابعین و زاحمھم فی الفتوی ۱؎ اھ

 (۱؎ ردالمحتار مقدمۃ الکتاب مطلب رسم المفتی داراحیاء التراث العربی بیرو ت ۱ / ۴۸)